Sonntag, 17. Juli 2011

اپنی تجرید کے کشف کا عذاب

اپنی تجرید کے کشف کا عذاب

راستے تو کھو چکے تھے اپنی ہر پہچان تک
ہم جنازے منزلوں کے  خود  اُٹھا  کر آئے ہیں

میں ایک فنکارہوں۔

ایک مصور ہوں۔
اپنی ذات کی دریافت کے لامتناہی عمل سے گزرتے ہوئے جب میں اپنی تجرید کے کیف آور لمس سے آگاہ ہواتواپنے اس کشف پر میں خود بھی حیرت زدہ رہ گیا۔میں نے اس لمس کو اپنی روح میں اتارلینا چاہا۔ مگر عجیب بات تھی کہ میں اس کے سرور میں بھیگاہواتھاپر اسے چھونے کی صلاحیت سے محروم تھا۔
’’یہ کیسا کشف ہے......یہ کیسا گیان ہے؟‘‘میں نے خود سے پوچھا۔
’’خارجی دنیاکو بھی تمہارے اس کشف کا ادراک ہونا چاہئے‘‘
ایک مقدس آواز ابھری اور پھر ڈوب گئی۔
میں ایک مصور ہوں۔رنگوں کی دنیاکا بادشاہ۔رنگ جو روشنی کا اظہارکرتے ہیں!
لفظوں میں ڈھل جائیں تو عظمتوں کے مینار بنتے ہیں۔
تاروں پر گریں تو زندگی کے راز آشکارہوتے ہیں۔
رنگ۔۔جن سے آرٹ کے سوتے پھوٹتے ہیں۔
تب میں نے اپنے فن پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی سوچ کے کینوس پر ایک شاہکار بنانے کا فیصلہ کیا۔پہلے مرحلے میں ،میں نے لفظوں کے سرخ رنگ سے اپنی تجرید کوپینٹ کرناشروع کیا۔گہراسرخ،ہلکاسرخ، گلابی،عنابی۔۔۔
میں تصویربنانے میں مگن تھالیکن جب تصویر بنانے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا تو میری آنکھیں حیرت سے پھٹنے لگیں۔ ساری سرخی آہستہ آہستہ سفیدی میں ڈھل رہی تھی۔ خون سفید ہونے کامحاورہ تو سننے میں آیاتھا مگریہ رنگ؟۔۔ لیکن خون بھی سفیدکب ہوتاہے۔ خون تو سرخ ہی ہوتاہے اور جو سفید ہوتاہے اسے خون نہیں کہتے۔
رنگوں کی ساری سرخی سفیدی میں ڈھل چکی ہے اور مجھے یقین ہوجاتاہے کہ محاورتاً سہی (اور یہ محاورہ بھی غلط سہی) میرا خون سفیدہوچکاہے۔ میں اپنے جسم سے نکل بھاگناچاہتاہوں۔ مگر اس کی دیواروں سے سرٹکراکر رہ جاتاہوں .... دہشت زدہ ہوکر خود کو دیکھنے لگتاہوں۔
تب میری تجرید کے انکشاف کا وہی لمحہ دوبارہ میرے اندر جاگتا ہے۔ حالانکہ یہ کشف بھی وہی ہے، لمس بھی وہی۔ مگر اس دفعہ اس میں ایک نئے ذائقے، نئی لذت اور نئے سرور کا احساس ہوتاہے۔ شاید اسی احساس کے باعث میں اپنی تجریدکو پھر کینوس پر منتقل کرنے لگتاہوں۔ پہلی تصویر کے رنگ اگرچہ سفید ہوچکے ہیں تاہم ان رنگوں کی مہک ابھی تک موجود ہے اور کہیں کہیں مدھم مدھم مٹتے ہوئے سے سرخ نشان بھی موجو دہیں۔
اب میں سبز لفظوں کے رنگ سے پینٹ کررہاہوں۔
گہرے سبز،آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والے ،ہرے بھرے کھیتوں جیسے رنگ ،مقدس دھرتی پر بکھرے ہوئے بیسیوں مقدس مناظرجیسے مقدس رنگ ۔میں ایک گونہ مسرت اور روحانی انبساط سے سرشار پینٹ کررہاہوں۔
مگریہ کیا؟۔۔میں خوف سے اپنی آنکھیں میچ لیتاہوں۔
اور وہ میری اندرکی آنکھوں سے میرے اندراُترآتی ہے۔
میں بے بس ہوکر آنکھیں کھول دیتاہوں اور وہ میرے اندر سے نکل کر پھر سامنے آجاتی ہے۔مجھے یقین نہیں آرہا۔ میں کلرٹیوب کوچیک کرتاہوں۔ اس پر ’’سبز‘‘لکھاہواہے۔
’’پھر یہ کینوس پر ہریالی کی بجائے پیلاہٹ کہاں سے آگئی؟‘‘ میں جیسے اپنے آپ سے پوچھتاہوں۔ پھر کلرٹیوب کو ایک ہاتھ میں لے کر دباتاہوں۔ ڈھیرسارا رنگ نکل کر فرش پر گرتاہے اور میری خاموش چیخیں اس میں گھل جاتی ہیں۔ ٹیوب کے اندر سارا پیلا رنگ بھراہواہے۔
ہری ٹیوب میں پیلارنگ مگر سرخ ٹیوب سے تو سرخ رنگ ہی نکلاتھا۔ پھر وہ کیسے سفیدہوگیا؟میں اپنے کشف میں اس خارجی دنیا کو بھی شریک کرناچاہتاہوں مگر یہاں رنگ ہی میرا ساتھ نہیں دے پارہے۔ مجھے عجیب سی بے بسی کا احساس ہوتا ہے۔ بے چارگی اور مایوسی کے اندھیرے چاروں طرف رقص کررہے ہیں ۔ یوں لگتاہے جیسے انہوں نے میرے اندر والے فنکارکو قتل کردیاہے اور میں اپنی لامتنا ہی تلاش کے سفر میں ایک ایسے ٹیلے پر کھڑاہوں جس کے ایک طرف سربفلک دشوار گزار پہاڑ ہیں اور دوسری طرف گہراناقابل عبورسمندر۔ ایک طرف سینکڑوں اژدہوں اور عفریتوں کی پھنکاریں ہیں تودوسری طرف آبی بلاؤں کی چیخیں۔میں اپنے آپ کو پکارناچاہتاہوں مگر میری صدا بھی کہیں کھوگئی ہے۔
میں ساری ٹیوبوں کو ایک ہی برتن میں خالی کردیتاہوں۔
سبز،سرخ، پیلا،نیلا،نسواری۔۔۔۔پتہ نہیں کون کون سے رنگ ہیں۔سارے رنگوں کو گھول کر میں اپنی انگلیوں کو کینوس پر وحشیانہ انداز میں پھیرنا شروع کردیتا ہوں۔سارے رنگ انتہائی بھونڈے طریقے سے کینوس پر مل دیتاہوں۔اس کے ساتھ ہی جیسے میری دیوانگی ختم ہوجاتی ہے۔سارا وحشیانہ پن ختم ہوجاتاہے
اب میری حیرت کا دوسرا رُخ بیدارہوتاہے
کینوس پر میری وہ تجرید کسی بھرپور شاہکار کی طرح موجود ہے۔
میں اس کا مفہوم ڈھونڈنے کی کوشش کرتاہوں اور معنویت کے سرے بے معنویت سے ملاتاہوں۔ تب میری تجرید کی ساری معنویت مجھ پر آشکار ہوتی ہے۔۔یہ معنویت اتنی گھناؤنی اور مکروہ ہے کہ میں کسی کو بھی اس سے آگاہ کرکے خوفزدہ نہیں کرناچاہتا۔ کیونکہ یہ معنویت صرف میری نہیں۔ ۔ہم سب کی ہے۔
شاید اسی لئے وہ مقدس آواز بھی اب نہیں آرہی ہے جس نے کہا تھا:
’’خارجی دنیاکو بھی تمہارے اس کشف کا ادراک ہونا چاہیے
!‘‘
***

بے ترتیب زندگی کے چند ادھورے صفحے

بے ترتیب زندگی کے چند ادھورے صفحے

جو میری روح میں بس زہر گھولتا ہی رہے
مرے  نصیب  میں  چینی  کا   کارخانہ   تھا

یہ کہانی اس عجیب و غریب لمحے سے شروع ہوتی ہے جب تقدیر کے بارے میں میرے شکوک یقین کی حد تک پختہ ہوچلے تھے۔ اسی لمحے میں تقدیر کو ایک ڈھونگ سمجھ کر اسے سرمایہ داروں کا استحصالی ہتھکنڈہ قرار دینے ہی والا تھا کہ کسی نامعلوم قوت نے اس لمحے کو منجمد کردیااور میں شک اور ایمان کے درمیان معلق ہوکر رہ گیا۔

**
ملک میں حکومت کی تبدیلی سے پالیسیوں میں بھی بنیادی تبدیلیاں آرہی تھیں۔ پہلے مزدوروں کو جتنی بے جا چھوٹ دی گئی تھی اب اس سے بھی زیادہ بے جاگرفت ہورہی تھی۔ اس حد تک کہ میں جو مزدوروں کی بے جا چھوٹ کے عہد میں اپنی مزدور یونین کا معتوب مزدور تھا، مجھے اس یونین کا سرگرم رکن بن جانا پڑا۔ اس لئے کہ مسئلہ میری ذات کانہ تھامزدور کے اجتماعی مفاد کاتھا۔ انہیں دنوں ایک اور صنعتی ادارے میں ایک معمولی سے بہانے کی آڑ میں سینکڑوں مزدوروں کے سینے گولیوں سے چھلنی کردیئے گئے۔ یہ حکومت کی طرف سے ملک کے تمام مزدوروں کو بھرپور عملی دھمکی تھی۔ مزدور اس دھمکی سے مرعوب ہونے کی بجائے مزید اشتعال میں آگئے۔ تاہم سرمایہ داروں اور ان کے ایجنٹوں کے حوصلے بھی بلند ہوگئے ۔اس صورت حال میں جب میری اپنے چیف کے ساتھ ٹھن گئی تو غیر متوقع طورپرانہیں کئی دفعہ میرے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوناپڑا۔ میری ان غیر متوقع کامیابیوں نے میرے اس شک کو مزید تقویت پہنچائی کہ تقدیر کاشوشہ سرمایہ داروں اور استحصالی قوتوں کی اختراع ہے۔
میں شک اور ایمان کے درمیان اس منجمدلمحے میں معلق تھاجب روشنی کی ایک کرن مجھ پر اُتاری گئی۔ اس کرن نے مجھے مقدر کے بارے میں بہت کچھ بتایا۔ لیکن جب اس نے یہاں تک کہا کہ دانے دانے اور قطرے قطرے پر نام لکھ دیاجاتاہے تو مجھے اپنے شدید اختلاف کا اظہار کرناپڑا۔ تب اس کرن نے مجھے پانی کے ایک قطرے کی بابت علم دیاکہ اس پر میرا نام لکھاگیاہے۔ اس کے ساتھ ہی مجھے اس قطرے کی پہچان اور اس کے ذائقے سے آگاہی کی خاص قوت بھی گئی۔ روشنی کی اس کرن نے واپس جاتے ہوئے کہا:
’’تمہیں اس امرکی کھلی چھٹی ہوگی کہ تم اس قطرے پر لکھی تحریر کومٹاسکو‘‘
**
ملزکا صنعتی امن سخت خطرے میں ہے۔ ملز انتظامیہ جھلاہٹ کاشکار ہے ۔ ادھر ہماری پے درپے کامیابیوں نے ہمارے حوصلے بھی بلند کررکھے ہیں نتیجتاً کسی مفاہمت کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ اپنے چیف کو میں نے زچ کرکے رکھ دیاہے۔ ذاتی طورپر مجھے کئی خوشنمالالچ بھی دیئے گئے مگر میں لیڈری کی دھن میں مست چلاجارہاہوں۔ لیکن ایک اچانک اور غیر متوقع حادثے نے مجھے منتشر کرکے رکھ دیا۔ ملز انتظامیہ کا پورا بورڈ بیٹھا ہوا تھا جب مجھے بلایاگیا۔ وہاں ملز کے جنرل منیجر نے صنعتی گڑبڑ کی تمام تر ذمہ داری مجھ پر ڈالتے ہوئے مجھے انتہائی غلیظ اور لچرگالیاں دیں۔ میں اپنی ڈیوٹی کی جگہ پر نہیں تھا اس لئے بہت کچھ کرسکنے کے باوجود بھی کچھ نہ کرسکا۔صبروتحمل سے گالیاں کھاکرلوٹ آیا۔
ملز میں پے درپے کامیابیوں کے بعد یہ میری پہلی اور بھرپورناکامی تھی۔
**
ملز کے بیگنگ ہاؤس کے انچارج نے جو خود بھی یونین کا سرگرم رُکن تھا، میرے ساتھ دلی ہمدردی کااظہارکیا۔چائے منگوائی اور ہم آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔چائے کا کپ ہاتھ میں لیتے ہی میری ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ قطرہ جس پر میرا نام لکھاتھا اس چائے میں موجود تھا۔ میں نے کچھ دیر اسے غور سے دیکھا۔ سوچا۔اور پھر چینی کی ایک بوری پر پورے کپ کو اس طرح انڈیل دیاکہ وہ قطرہ بھی اس میں جذب ہوجائے۔
میرا مزدور ساتھی مجھے ہوّنقوں کی طرح دیکھ رہا تھا۔
یہ تقدیر کے مقابلہ میں میری پہلی کامیابی تھی۔
**
ملز میں پے درپے کئی اہم واقعات ہوگئے ہیں۔ ملز انتظامیہ کی اشتعال انگیزیوں کے نتیجہ میں مزدوروں نے ایک دن چار پانچ افسروں کی زوردار پٹائی کردی۔ مگر افسوس جنرل منیجر اس ہنگامے سے بچ نکلے۔
پولیس آئی، گرفتاریاں ہوئیں۔ آخر پندرہ مزدوروں کے استعفوں پر مفاہمت ہوگئی۔ تمام جھوٹے سچے مقدمات بھی واپس لے لئے گئے۔ جس دن پندرہ مزدوروں کے استعفوں کا معاہدہ ہوامیرے چیف نے خاص طورپر فون کرکے میری خیریت دریافت کی۔ مجھے اس بھرپور شکست کا احساس تھا۔ مگر جب مزدوروں کے ہاتھوں افسروں کی زوردار بلکہ چٹخارے دار پٹائی کا خیال آتاتو اس شکست کا احساس زائل ہونے لگتا۔ یوں بھی پٹائی کرنے والے مزدوروں نے توکوڑے کھانے اور قیدیں بھگتنے کی توقعات کے ساتھ یہ کارنامہ سرانجام دیاتھا۔ گویا محض استعفے دے کر وہ سستے چھوٹ گئے۔ پھر بھی سبکی کاایک احساس ضرور موجودرہا۔ میں اور تو سب کچھ بھول سکتاتھا مگر جنرل منیجرکے گھٹیاسلوک کو فراموش کرنا میرے لئے بے حد مشکل تھا۔ اپنی توہین کا انتقام لینے کے لئے میں کسی مقدر سے بھی ٹکراجانے کے لئے تیار تھا۔
**
ایک چھٹی کے موقعہ پر ہمارے پورے سٹاف نے ایک بھرپور پکنک منانے کا پروگرام بنایا۔ خاصی دلچسپ پارٹی تھی۔ مگر کوکاکولا کی ایک بوتل کھولتے ہی مجھے احساس ہوا کہ پانی کا وہ قطرہ اس بوتل میں موجود ہے۔ میں نے طنزیہ انداز میں اس قطرے کو دیکھا اور پوری بوتل نہر میں انڈیل دی۔ میری چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
یہ مقدر کے مقابلہ میں میری دوسری کامیابی تھی۔
**
میرے چیف کی سرگرمیاں میرے خلاف بڑھتی جارہی تھیں۔ لگتاتھا وہ میرے سارے قرض یکمشت چکادینا چاہتے ہیں مگر پھر ایک دن انہوں نے زندگی کے سارے قرض بھی چکادیئے۔ اچانک اطلاع ملی کہ وہ دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔ ملز انتظامیہ کاپورا بورڈ کنارے پر موجود تھامگر کوئی بھی اپنے ڈوبتے ساتھی کی مدد نہ کرسکا۔
اس سانحہ کے کچھ عرصہ بعد چینی کی بلیک مارکیٹنگ کی تحقیق کے دوران کوکاکولا کی انتظامیہ نے حکام کو بتایاکہ انہوں نے چینی ہماری شوگر ملز سے خریدکی تھی۔ چنانچہ ملز پر چھاپہ پڑااور تحقیقات کاسلسلہ وسیع ہوتاگیا۔
**
ایک عزیز کی شادی کے سلسلہ میں چند دنو ں کے لئے کراچی جانا پڑا تو وہاں ایک دن سمندرکی سیرکاپروگرام بھی بن گیا۔ میں سمندرکی بل کھاتی اور لہراتی ہوئی لہروں کو آتے جاتے دیکھتارہا۔ پھر خود بھی سمندرمیں اترآیا لہروں کا مجھے چھوکردور تک چلے جانااور پھر شریر انداز میں واپس ہونا مجھے بڑا خوبصورت لگ رہاتھا۔ میں جیسے کھوساگیا۔ ایسے میں ایک لہراتی ہوئی لہر کو آتے دیکھ کر میں نے اپنے ہونٹوں کو دائرے کی شکل میں واکیااور اس لہر کاپانی اپنے منہ میں بھرنے کے لئے انتظارکی حالت میں کھڑاہوگیا۔ اچانک مجھے ایک جھٹکاسالگا۔ میں جیسے نیند سے بیدارہوگیا۔ اپنے ہونٹوں کے دائرے کی عین سیدھ میں آتی ہوئی لہر میں مجھے وہ قطرہ صاف نظرآرہاتھا۔ میں نے اپنے ہونٹ سختی سے بند کرلئے اور جونہی وہ قطرہ میرے قریب پہنچامیں نے ایک زوردارہاتھ مارکراسے پرے پھینک دیا۔ یہ مقدر کے مقابلہ میں میری تیسری شاندار کامیابی تھی۔
**
ملز انتظامیہ کی زیادتیوں کا یہ عالم تھاکہ وہ میری تعلیم اور صلاحیتوں کو جانتے ہوئے بھی نہ صرف مسلسل نظرانداز کررہی تھی بلکہ اس کارویہ میرے خلاف خاصا جارحانہ تھا۔ جائزحقوق کی پامالی نے میرے اندر کے باغی کی حوصلہ افزائی کی۔ میں اب مقدر کو بڑی حد تک ڈھونگ سمجھنے لگاتھا۔ لیکن ملز پر پڑنے والے چھاپے کے نتیجہ میں جب جنرل منیجر کے بجائے وہ افسر گرفت میں آیا جس نے ایک دفعہ ایک غریب مزدور کوناجائز طورپر گرفتا رکرواکے نہ صرف پولیس سے پٹوایاتھا بلکہ پھر اسے ملازمت سے بھی نکلوادیاتھا۔۔۔تو مجھے قدرت کے نظام پراز سرِنوغور کرنا پڑا۔
**
پانی کا گلاس ہاتھ میں لیتے ہوئے میری آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ قطرہ اس گلاس میں موجود تھا۔ میں نے اس گلاس کو میز پر رکھ دیا۔ ایک دوسرے گلاس میں پانی منگوایا۔ پھر دوسرے گلاس کو پہلے گلاس سے یوں ٹکرایاجیسے جام سے جام ٹکرائے جاتے ہیں۔ دوسرے گلاس کا پانی پی کر اس پہلے گلاس کو پھر اٹھایا۔ اس قطرے کو ایک فاتحانہ اندازسے دیکھا اور پھر ’’تقدیر کے نام جام صحت‘‘ کہہ کر اس گلاس کو فضا میں اچھال دیا۔ پانی زمین پر گر کر پھیلنے اور پھر اس میں جذب ہونے لگا۔تقدیر کے مقابلہ میں یہ میری چوتھی کامیابی تھی۔ مجھے اپنے پاؤں زمین پرٹکتے نہیں معلوم ہوتے تھے۔ ایسا محسوس کررہاتھا کہ میں اب ہر استحصالی قوت سے ٹکراسکتاہوں۔
**
ملز میں چینی کی بلیک کے اسکینڈل کی تحقیقات کاکوئی واضح رخ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔تاہم افواہیں گرم ہیں کہ ملز کے منیجنگ ڈائریکٹر، جنرل منیجر اور کچھ افسروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے ہیں۔ جبکہ یہ تمام افسران غائب ہیں۔میری دلی خواہش ہے کہ اس معاملہ میں کم از کم جنرل منیجر کاانجام ضرور ذلت آمیز ہو۔
**
میں شہر سے ایک قریبی گاؤں میں اپنے ایک دوست سے ملنے گیاتو وہیں گہرے گہرے بادلوں نے آلیا۔ اصولاً مجھے واپسی کی فکر کرنی چاہیے تھی لیکن موسم اتنا خوشگوار اور شاعرانہ تھاکہ میں اس سے بچوں کی طرح لطف اندوز ہونے لگا۔
ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوئی تو میں نے بارش کے ٹھنڈے اور میٹھے قطرے اپنے منہ میں ڈالنے کے لئے ہونٹ کھولے اور منہ اوپرکیا۔ میری آنکھیں بارش کے باعث جھپک رہی تھیں۔ اچانک میں نے دیکھاوہی قطرہ سیدھا میرے منہ کی طرف آرہاتھا۔ میں نے ہونٹ بند کرلئے اور پھر اس قطرے کو زمین پر گرتادیکھنے لگا۔ مجھے اس قطرے کی بے بسی پر رحم آنے لگا۔میں خود کو ہواؤں کے ساتھ اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
میں نے تقدیر کو خشکی کے راستے سے بھی شکست دی۔ پانی کے راستے سے بھی شکست دی۔ اور اب آسمان کے راستے سے بھی میں نے اسے شکست دے دی تھی۔۔۔۔۔میں اپنی عظمت کو خود ہی حیرت سے دیکھنے لگا!
**
اتنے دن غائب رہنے کے بعد آج جنرل منیجرملز میں دیکھے گئے۔ معلوم ہوتاہے ضمانت کراکے آئے ہیں۔ لیکن سہ پہر تک اطلاع ملتی ہے کہ پولیس نے جنرل منیجر کی کوٹھی کو گھیرے میں لے کر، اس کی پچھلی کھڑکی کے شیشے توڑکر، اس راستے سے اندر داخل ہوکر موصوف کو گرفتارکرلیاہے۔
مجھے عجیب سی مسرت کا احساس ہوتاہے۔
**
مسرت کی اس عجیب سی کیفیت کے ساتھ میں کین کیریئر کی طرف آتاہوں۔ یہاں گنے سے لدے ہوئے کتنے ہی ٹرک، ٹرالیاں اور بیل گاڑیاں موجود ہیں۔ میں ایک ٹرالی سے ایک اچھا سا گنانکال کر، اسے صاف کرکے دانتوں سے چھیلتاہوں۔مگر پہلی گنڈیری چوستے ہی مجھے احساس ہوتاہے کہ وہ قطرہ میرے منہ میں پہنچ چکاہے۔ اس کے ذائقے سے آگاہی کی جو خاص قوت مجھے دی گئی تھی وہ اس کی تصدیق کررہی تھی۔
وہ قطرہ پوری طرح میرے منہ میں گھل گیاتھا۔ میں نے تھوک کر اس قطرے کو پھینک دیناچاہا۔ لیکن پھر دانستہ طورپراس قطرے کو حلق سے نیچے اتارلیا۔
اس قطرہ کے میرے اندرجاتے ہی میرے اندر روشنی سی بھرگئی۔ میری انا سے تکبر کی ساری گرد اُترگئی اور پھر میری انااس روشنی میں ڈوب گئی۔ اس روشنی میں ،میں نے آنے والے تمام دنوں کو دیکھ لیا۔ اور میرے چہرے پر اطمینان کا نور پھیل گیا۔
تب ہی وہ منجمد لمحہ پگھل گیاجس نے اس کہانی کی ابتداکی تھی۔

***

پتھر ہوتے وجود کا دکھ

پتھر ہوتے وجود کا دکھ

بکھر گئے ہیں ملن  کے  تمام دن حیدرؔ
ٹھہر گئی ہے جدائی کی رات آنکھوں میں

میں’’ جادو کے کھیل‘‘ کتاب سے ایک کھیل پڑھ کر اس کا عملی تجربہ کرنے کے لئے اباجی کے صندوق سے مشک کافور کی ٹکیاں نکال کر لاتاہوں۔ تب ہی ہمارے گھر کے قریب والے گھر کی خوبصورت آنکھوں والی بچی آجاتی ہے۔ میں اسے بتاتاہوں کہ میں پانی میں آگ لگاسکتاہوں۔ وہ مجھے بے یقینی سے دیکھتی ہے۔۔ پھر جب میں مشک کافور کی ٹکیوں کو آگ لگاکر پانی میں آگ کا منظر دکھاتاہوں تو وہ بے حد حیران ہوتی ہے۔ اس کی خوبصورت اور حیران حیران آنکھوں میں عجیب سی چمک پیداہوتی ہے۔ اپنی آنکھیں کھولتاہوں تو دیکھتاہوں کہ وہ پانی میں آگ کے کھیل کی بجائے مجھے بڑی حیرت سے دیکھ رہی ہے۔اس حیرت میں محبت کی مدھم مدھم پرچھائیاں بھی نظر آتی ہیں۔سحر انگیزپرچھائیاں!

**
میں ابھی تک اس کے بچپن کے اس سحر سے ہی نہیں نکل پایا۔ مجھے معلوم ہے جو نہی میں اس کے بچپن کے سحر سے نکلااس کی جوانی کا طلسم مجھے پتھر بنا دے گا اور تب جادو کی کوئی کتاب کوئی علم اور کوئی اسم مجھے پتھر سے انسان نہ بنا سکے گا۔
وہ مختلف موضوعات پر بے تکان بولے جارہی ہے۔ اور میں اس سے آنکھیں چار کرنے کی بجائے اپنی لائبریری کی بڑی ٹیبل پر نظریں گاڑے اس کی باتیں سن رہاہوں۔ اور صرف ’’ہوں ہاں‘‘ کرکے اپنا اخلاقی فرض پوراکررہاہوں۔
گرمیاں آگئی ہیں۔شاید اسی وجہ سے چھت پر لگے ہوئے تیز بلب کی روشنی میں روشنی کے ڈھیر سارے کیڑے میری ٹیبل پر گر رہے ہیں۔اتنے چھوٹے کیڑے کے ہلکی سی پھونک سے اُڑجائیں، میں ایک کیڑے کو پنسل کے ہلکے سے دباؤ کے ساتھ مسل دیتاہوں۔ ظاہر ہے کیڑا مرچکاہے، مگر میری حیرت کی انتہا نہیں رہتی جب میں مَرے ہوئے کیڑے کو بھی متحرک دیکھتاہوں۔۔ میں نگاہیں جھکائے ہوئے اسے متوجہ کرتاہوں اور بتاتاہوں کہ یہ کیڑا مرنے کے باوجود حرکت کررہاہے۔ وہ تھوڑا غور سے کیڑے کو دیکھتی ہے اور پھر ایک کھنکتاہوا قہقہہ گونجتاہے۔
میں اس کی طرف دیکھنے کے لئے سراٹھاتاہوں مگر پھر گھبراکر آنکھیں نیچی کرلیتاہوں۔ میں اس کے بچپن کے خوبصورت سحر میں ہی گھرارہنا چاہتاہوں۔ اس کی جوانی کا طلسم مجھے پتھر بنادے گا۔ اور پھر جادو کی کوئی کتاب، کوئی علم اور کوئی اسم مجھے پتھر سے انسان نہ بناسکے گا۔
اس کے کھنکتے قہقہے کی گونج ابھی تک کمرے میں موجود ہے اور پھر اس گونج میں سے اس کی آواز سرسراتی ہے۔ وہ کہتی ہے،
’’چھت پر لگے ہوئے پنکھے کی ہوا سے کیڑا متحرک نظرآرہاہے۔ وگرنہ کیڑاتو بے چارہ مرچکاہے۔‘‘ میں اطمینان کا سانس لیتاہوں اور پھر اس مردہ کیڑے کو دیکھتاہوں جو پنکھے کی ہوا سے متحرک نظرآتاہے۔
وہ پھر کہتی ہے،
’’لیکن جن کیڑوں کو تم نے نہیں مسلاوہ بھی مردہ ہی ہیں۔ یہ سارے کیڑے مردہ ہیں۔صرف پنکھے کی ہوا سے زندہ معلوم پڑتے ہیں۔ یہ بھی جادو کے کھیل ہیں، قسمت کے کھیل ہیں....ہم جو زندہ ہیں کیا واقعی ہم زندہ ہیں؟‘‘
وہ میرے بے حد قریب آجاتی ہے اور میں گھبراکر آنکھیں نیچی کرلیتاہوں۔وہ کہے جارہی ہے:
’’کیاواقعی ہم زندہ ہیں؟۔۔نہیں۔۔ہم بھی قسمت کے جادوئی پنکھے کی ہوا کی زد میں آئے ہوئے مردہ کیڑے ہیں۔ جو صرف ہوا کے دباؤ سے متحرک ہوکر زندہ معلوم پڑتے ہیں۔‘‘
وہ میرے بالکل قریب آکر میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیتی ہے، میں خوفزدہ ہوکر اپنی آنکھیں موند لیتاہوں۔
وہ کہتی ہے۔
’’میری طرف دیکھو!میں بھی ایک مردہ کیڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی اور تم بھی.....مگر یہ تم نے آنکھیں کیوں موند رکھی ہیں؟‘‘
’’تم صحیح کہہ رہی ہو۔ہم سب قسمت کے جادوئی پنکھے کی ہوا کی زد میں آئے ہوئے مردہ کیڑے ہیں‘‘(۔۔۔پھر جادو کی کوئی کتاب، کوئی علم اور کوئی اسم مجھے پتھر سے انسان نہ بناسکے گا)
اور میں پتھر اجانے کے خوف سے بند آنکھو ں پر ہاتھ بھی رکھ لیتاہوں۔
وہ بڑی ملائمت سے میری آنکھوں پرسے میرے ہاتھ ہٹاتی ہے اور تب ہی میری اس سے آنکھیں چار ہوتی ہیں۔
اس کی غزالی آنکھوں سے روشنیاں طلوع ہوتی ہیں۔
میں پتھر نہیں ہوتابلکہ میں تومسلسل پگھلتاجاتاہوں۔ خوشبوئیں مجھے گھیر لیتی ہیں۔ ایک عجیب سی لذت کا احساس جاگتاہے۔ میں بے سبب اس سے خائف رہا۔ میں بھرپور نظروں سے اسے دیکھتاہوں اور روشنیاں اور خوشبوئیں اس کی آنکھوں اور اس کے جسم سے میری روح میں اتر کر رقص کرنے لگتی ہیں۔
میں اس نئے تجربے کی لذت میں گم ہوں۔
مجھے زندگی کا یقین ہونے لگتاہے۔
وہ بھی خوش ہے مگر اس کی خوبصورت آنکھوں سے ایک انجانی اداسی جھلک رہی ہے۔
’’ہم مردہ کیڑے نہیں ہیں۔ ہم زندگی کے گواہ ہیں۔ کم از کم تم اور میں‘‘
میری بات سن کر وہ کچھ اور اُداس ہوجاتی ہے۔
**
شہنائیوں کی دُھن سے میرا وجود سن ہوتاجارہاہے۔
چہرے کے علاوہ مرا باقی جسم پتھر ہوگیاہے۔
میری دائیں طرف وہ لمحہ کھڑاہے جس میں میں نے اپنے اور اس کے بچپن میں پانی میں آگ کا کھیل کھیلا تھا۔ وہ ابھی تک پانی میں آگ کو دیکھنے کے بعد مجھے حیرت سے دیکھ رہی ہے۔
میری دائیں طرف وہ لمحہ کھڑا ہے جب روشنیاں اور خوشبوئیں اس کی آنکھوں اور جسم سے اُترکرمیری روح میں رقص کرنے لگی تھیں۔
اس کی ڈولی روانہ ہونے والی ہے اور میں اپنے کہے لفظوں کی تردید کرتاہوں:
’’اس نے سچ کہاتھا۔ ہم سب مردہ کیڑے ہیں جو قسمت کے جادوئی پنکھے کی ہوا کی زد میں متحرک ہونے کے سبب زندہ معلوم پڑتے ہیں۔‘‘
اب مجھے اس کی انجانی اداسی کا راز بھی معلوم ہوتاہے۔
میرا چہرہ بھی پتھر ہونے لگتاہے۔
لیکن اس سے پہلے کہ میرا سارا چہرہ پتھر ہوجائے اس کے جسم سے میری روح میں اترنے والی خوشبوئیں میری سانسوں میں جم کر مشک کافور کی کئی ٹکیاں سی بن جاتی ہیں۔ اس کی غزالی آنکھوں سے طلوع ہونے والی روشنیوں سے ان میں آگ لگتی ہے اور پھر میری آنکھوں کے پانی میں آگ تیرنے لگتی ہے۔ اور میں اس پانی میں ڈوب کر اور اس آگ میں جل کر خود کو مکمل پتھر ہونے سے بچانے کی آخری کوشش کرنے لگتاہوں۔
تاکہ زندگی کاکچھ تو بھرم رہ جائے
!
***

کاکروچ

کاکروچ

اگلی نسلوں میں چلی جائے روانی اپنی
زندگی!    ختم  نہیں  ہوگی   کہانی  اپنی

’’ایٹمی جنگ کے متوقع خطرات کے پیش نظر میں نے ایٹمی جنگ کے بعد کے انسان کے حوالے سے ایک کہانی سوچی ہے۔‘‘

نصیر حبیب نے میری بات کو دلچسپی سے سنااورکہا:’’کہانی کا خیال سناؤ‘‘۔ لیکن اسی دوران مسعود شاہ بول اُٹھا۔ ’’یار!تم اب تک اسی موضوع پر پہلے ہی دو کہانیاں لکھ چکے ہو۔ اس موضوع کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو؟ لگتاہے ایٹمی جنگ کراکے ہی رہوگے‘‘۔ مسعود شاہ اپنے مزاج کے لاابالی پن کے باعث جو منہ میں آئے بول دیتاہے۔
’’کہانی کاخیال سناؤ!‘‘نصیر حبیب نے پھر پہلے لہجے میں کہا۔
’’چلو یار!اب کہانی سنابھی چکو‘‘مسعود شاہ نے بے زاری کے ساتھ جیسے نصیر حبیب کاساتھ دیا۔

’’اس کہانی کا آغاز ایٹمی جنگ کے بعد کے انسان سے ہوتاہے۔ میں اور ایک عورت اس جنگ میں معجزانہ طورپربچ گئے ہیں۔ چنانچہ ہم دونوں مل کر اس زمین پر آدم اور حوا کی نئی کہانی شروع کرتے ہیں۔ میں نہ صرف صاحبِ اولاد ہوگیاہوں بلکہ میری اولاد بھی صاحبِ اولاد ہوگئی ہے۔ تاہم کرۂ ارض پر ہماری حالت ایسے ہی ہے جیسے انسان ابھی ابھی غار کے زمانے سے نکل کر جنگل میں جھونپڑے بنارہاہے۔ میرے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں نہیں جانتے کہ انسان کیسی عظیم تر ترقیات کے دور سے نکل کر جنگل کے دور میں آگیاہے‘‘
میں دیکھتاہوں کہ نصیر حبیب ہی نہیں مسعودشاہ بھی میری کہانی کو سنجیدگی سے سن رہاہے۔
’’ایک دن میرے پوتوں، پوتیوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ میں انہیں عام معمول سے ہٹ کرکوئی انوکھی سی کہانی سناؤں۔ تب میں انہیں اپنے ترقی یافتہ دور کے حالات بتانے لگتاہوں۔
’میرے پیارے بچو! یہ کہانی نہیں حقیقت ہے۔ اس کے باوجود کہانی سے زیادہ دلچسپ اور المناک ہے۔ آج سے چند عشرے پہلے سارے دنیا ہم جیسے انسانوں سے بھری ہوئی تھی۔ انسان کو دنیا میں ہر طرح کی نعمتیں میسر تھیں۔ سفر پر جاناہوتو کارسے لے کر ہوائی جہازتک کی سہولتیں موجود تھیں۔‘
’دادااَبو!یہ کاراور ہوائی جہاز کیاہوتے تھے؟‘
میری پوتی نے سوال کیاتو مجھے وضاحت کرنا پڑی کہ کار ایک سواری تھی جس میں چار پانچ آدمی بیٹھ جاتے۔ اسے صرف ہینڈل کرناہوتاتھاوہ خود ہی سواریو ں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی۔ یہاں سے دریا کے کنارے تک کاجوفاصلہ ہم آدھے دن میں طے کرتے ہیں۔ کارہمیں پل بھر میں وہاں پہنچادیتی تھی۔بچوں کے چہروں سے تجسس اور دلچسپی ظاہر ہورہی تھی۔
’اور دادااَبو۔۔۔ہوائی جہاز؟‘۔میرے پوتے نے پوچھا۔
’ہوائی جہاز بہت بڑاہوتاتھا۔ اس میں کئی سوافراد بیٹھ جاتے تھے تو وہ انہیں اتنی دور تک پہنچادیتاجتنی دور تم اپنی ساری زندگی میں بھی نہیں جاسکوگے۔ اور ہاں ۔ ۔ہوائی جہاز پرندوں کی طرح اُڑکر جاتاتھا۔دریاؤں اور پہاڑوں کے بھی اوپر سے گزرجاتاتھا۔‘
میری بات سن کر بچے کھلکھلاکر ہنس پڑتے ہیں۔
’دادااَبواور کیا ہوتاتھاآپ کے زمانے میں؟‘اس بار میرے پوتے کے لہجے میں شرارت کی چمک تھی۔
میں نے ایک لمباسانس لیااور پھر بتانے لگا’اُس زمانے میں ریڈیو،ٹیلی ویژن، ٹیلی فون، فیکس،کمپیوٹر....‘
’دادا اَبو! یہ ریڈیو کیا ہوتا تھا؟‘
’یہ ایک چھوٹاسابکس ہوتاتھا۔ اس کے بٹن گھمانے سے کبھی گیت سنائی دیتے۔ کبھی ساری دنیا کی خبریں، کبھی لوگوں کی گفتگو۔‘
’اور ٹیلی ویژن ؟‘
’ریڈیووالی ساری چیزیں ٹیلی ویژن پر سنائی بھی دیتی تھیں اور دکھائی بھی دیتی تھی۔ یعنی اگر کوئی آواز آرہی ہے تو اس کا چہرہ بھی دکھائی دیتااور وہ شخص ہماری طرح ہی چلتاپھرتااوربولتانظرآتاتھا۔‘
ننھے منے معصوم بچوں نے میری بات سن کر اتنے زور سے قہقہے لگائے کہ میں خفیف سا ہوگیا۔ وہ مجھ سے پہلے زمانے کی اور دلچسپ باتیں سنناچاہتے ہیں مگر میں کہتاہوں۔ پیارے بچو!میں اب تھک گیاہوں اس لیے باقی باتیں کل سناؤں گا۔
پھر میں ان کے جھونپڑے سے نکل آتاہوں۔جھونپڑے سے باہر آکر یونہی خیال آیا اور میں رُک کر بچوں کی آوازیں سننے لگا۔ میرا ایک پوتاکہہ رہاتھا: ’دادااَبوزیادہ بوڑھے ہوگئے ہیں اس لئے اچھی اچھی کہانیوں کو اپنے زمانے کے واقعات سمجھنے لگ گئے ہیں۔‘
میرے باقی سارے پوتے پوتیاں اس کے تبصرے کی تائید میں ہنس رہے تھے‘‘
 
میں نے کہانی ختم کی تو مسعود شاہ نے زوردارقہقہ لگایا۔ ’’یار!اگر جنگ میں صرف تم اور ایک عورت ہی بچتے ہوتو بچوں کی شادیاں کیسے کیں؟کیا پھر بہن بھائیوں کی شادیاں کرادیں؟‘‘
’’اگر آپ کو اس میں الجھن محسوس ہوتی ہے تو جنگل کے قریب دریاکے کنارے پر ایک اور مرد، عورت بھی جنگ سے بچادیتاہوں‘‘میں نے وضاحت کی۔
’’یہ چھوٹی چھوٹی باتیں تو کہانی لکھتے وقت خود اپنی راہ بناتی جائیں گی۔ میں ایک اور اہم مسئلے کی طرف توجہ دلاناچاہتاہوں‘‘ نصیر حبیب نے سنجیدگی سے کہا’’ایٹمی جنگ کے بعد سطح زمین پر کسی انسان کازندہ بچ رہناسائنسی طورپرممکن نہیں۔ اس لئے بچ رہنے والوں کو آپ کس بنیاد پر بچارہے ہیں؟‘‘
’’میری کہانی بنیادی طورپرفکشن ہے، اسے آپ سائنسی مضمون تونہ سمجھیں‘‘ میں نے نصیر حبیب کے اعتراض کے جواب میں کہا۔
’’میں تو فکشن کی اہمیت کامعترف ہوں‘‘نصیر حبیب نے متانت سے کہا۔ ’’بلکہ میرے نزدیک سائنس کی بنیاد بھی فکشن پر ہے۔ ہرنیا سائنسی انکشاف پہلے فکشن ہوتاہے۔ اس لئے میں نے جو نکتہ اٹھایاہے پہلے مجھے اس کی تفصیل بیان کرلینے دیں۔‘‘
میں تو نصیر حبیب کی تفصیل سننے کے لئے ہمہ تن گوش تھاہی۔ مسعود شاہ بھی خلاف توقع سنجیدہ ہوگیاتھا۔
’’سطح زمین پر ایٹمی جنگ کی صورت میں کوئی ذی روح مخلوق زندہ نہیں رہ سکتی۔ صرف وہ مخلوق زندہ رہ سکتی ہے جس میں نیوکلیر پوائزن ہو۔ کیونکہ صرف یہی ایلیمنٹ ہر قسم کی تابکاری کو جذب کرسکتاہے۔ مثلاً لیڈہر قسم کی تابکاری کو جذب کرسکتاہے لیکن اگر انسانی خون میں لیڈشامل ہوتوپھر اسے ہلاک کرنے کے لئے ایٹمی جنگ کی بھی ضرورت نہیں، انسان ویسے ہی مرجائے گا‘‘
’’آپ کا مقصد یہ ہے چونکہ انسانی خون شریانوں میں ہوتاہے اس لیے اس کی موت واقع ہوجائے گی لیکن بعض ذی روح ایسے ہیں کہ ان کے ہاں شریانوں والا سسٹم نہیں ہے مثلاً مکھی کے جسم میں خون کی الگ تھیلی ہوتی ہے، اس لئے اگر اس کے جسم میں نیوکلیر پوائزن ہو تو اس کی موت واقع نہیں ہوگی‘‘
میری بات سن کر نصیر حبیب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ’’آپ کی کہانی اب بنے گی۔ مکھی کی جگہ کاکروچ لے لیں۔ فرض کرلیں کہ کاکروچ کے وجود میں بھی ایسا سسٹم ہے کہ تابکاری اثرات اسے نقصان نہیں پہنچاسکتے بلکہ الٹا اس کی گروتھ کرتے ہیں۔ لہٰذا ایٹمی جنگ کے بعد سارے ذی روح مرجائیں گے سوائے کاکروچ کے۔ اور تابکاری اثرات سے جب ان کی گروتھ ہوگی تو آنے والے زمانے میں اس زمین کے حکمران اور مالک یہی کاکروچ ہوں گے جو انسانی قد کے برابرہوجائیں گے‘‘۔
نصیر حبیب کی کہانی سن کر مسعود شاہ نے زوردار قہقہہ لگایا۔
’’ٹھہریں!‘‘میں نے ہاتھ اٹھاکرسنجیدگی سے کہا’’کہانی تو ہزاروں سال پہلے بن چکی ہے‘‘
نصیر حبیب نے مجھے الجھے ہوئے انداز سے دیکھا۔
’’دوستو!ایسا بھی تو ہوسکتاہے کہ ہم آج کے انسان ہزاروں سال پہلے کے کسی زمانے کے کاکروچ ہوں‘‘
’’کیا؟‘‘نصیر حبیب اور مسعود شاہ کی آوازوں میں گھبراہٹ تھی اورپھر وہ اس طرح اپنے آپ کو دیکھنے لگے جیسے واقعی کسی پرانے زمانے کے کاکروچ ہوں۔

***

روشن نقطہ

روشن نقطہ

طُور   سے  بڑھ  کے  اپنا  حال  ہوا
صرف اک بار من میں جھانکے تھے

’’میں محبت کیاہارا،دین اور دنیابھی ہارگیا‘‘

پیرسائیں نے میری بات سن کر مجھے غور سے دیکھا:
’’محبت میں ہارجیت کوئی معنی نہیں رکھتی‘‘پیرسائیں کی آواز میں تھرتھراہٹ تھی ’’لیکن پہلے اپنا قصہ سناؤ‘‘
’’وہ مجھے چاہتی ہے۔میں بھی اسے چاہتاہوں مگر وہ اِدھر اُدھر بھٹکتی پھر رہی ہے اور جان بوجھ کر بھٹکتی پھر رہی ہے‘‘‘
’’مجھے وہ خاصی ذہین لگتی ہے۔جان بوجھ کر بھٹکنے والے لوگ غیر معمولی ہوتے ہیں‘‘پیرسائیں بھی شاید اس کے چاہنے والے نکلے۔
’’محبت کی شدت کے باوجود اس نے آج تک حجاب قائم رکھاہے‘‘میں نے اذیت کے ساتھ کہا۔
’’المحبۃ حجاب بین المحب والمحبوب۔محبت خود محبوب اور محب کے درمیان پردے کانام ہے‘‘پیرسائیں نے آنکھیں موند کر عالم استغراق سے کہا۔
’’اگر محبت خود پردہ ہے تو پھر یہ سب کچھ کیوں ہوتاہے؟‘‘میں نے پیرسائیں سے سوال کیا۔
’’پردہ ہمارے اپنے اندر ہوتاہے۔اگر یکتائی کے سفر راست طورپر کئے جائیں تو سارے پردے چاک ہوجاتے ہیں۔‘‘
’’پیرسائیں!مجھے وہ سفربتائیں میں پھرسے اپنا ٹوٹا ہوا سلسلہ جوڑناچاہتاہوں‘‘
میں نے ادب کے ساتھ درخواست کی۔
پیرسائیں نے گہری سانس لی او ربولے:
’’محبت کے چار سفر ہیں۔کامیابی کے لئے یہ سفر ضروری ہیں
محب سے محبوب کی طرف۔محبوب سے محب کی طرف
محب سے محب کی طرف۔ محبوب سے محبوب کی طرف‘‘
’’پیرسائیں!کیاان اسفار کے بعد گوہر مقصود مل جاتاہے؟‘‘
میں نے خوشی کے ساتھ سوال کیا۔
پیرسائیں نے کوئی جواب نہیں دیاتومیں نے پھر ادب کے ساتھ اپناسوال دہرایا۔پیرسائیں نے پھر بھی جواب نہیں دیا۔ میں نے نظر اٹھاکر پیرسائیں کی طرف دیکھا۔ ان کا گلارندھاہواتھا۔ آنکھوں میں آنسو تھے اور شدتِ غم سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔پیرسائیں بھی محبت ہارے ہوئے تھے۔
’’اللہ اکبر‘‘پیرسائیں کے ڈیرے پر بیٹھے ہوئے ایک فقیر نے نعرہ لگایا۔ میں نے چونک کر اسے دیکھا۔ پیرسائیں نے بھی اسے حیرت سے اس طرح دیکھا جیسے پہلی بار دیکھ رہے ہوں۔ اب وہ اپنی غم کی حالت پر بھی قابو پاچکے تھے۔
’’پیرسائیں!آپ تو شاید صرف محبت ہارے ہوئے ہیں مگر میں تو دین و دُنیا بھی ہارچکاہوں‘‘
’’دین کو سمجھنے کے لئے دنیاکوسمجھنا ضروری ہے۔ تمام عوالمِ الٰہی کو سمجھ کر ہی کسی نتیجے پر پہنچاجاسکتاہے۔‘‘
’’مگر مجھے تو کسی نتیجے کا انتظارنہیں۔ میں تو اپنی بازی ہارچکاہوں‘‘میں نے مایوسی سے کہا۔
’’محبت کے اسفارکی طرح عوالم الٰہی کو بھی چارحصّوں میں بیان کیاجاسکتاہے‘‘
پیرسائیں نے میری بات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنابیان جاری رکھا:
’’یوں تو عوالمِ الٰہی لامتناہی ہیں مگر اپنی سہولت کے لئے ہم نے انہیں چارحصّوں میں تقسیم کر رکھاہے‘‘ ۔
’’پیرسائیں۔میں اپنی دنیاہارنے کی بات کررہاہوں،آپ کون و مکان کی باتیں فرمارہے ہیں‘‘میں نے پھر پیرسائیں کو اپنے مسئلے کی طرف لانے کی کوشش کی۔ مگر بے سود!
’’پہلاعالم، عالمِ زمان ہے۔ یہ ایسا عالم ہے جس کی اِبتدااور اِنتہادونوں ہیں۔
دوسراعالم، عالمِ دہر ہے۔ اس عالم کی ابتدامعلوم مگر انتہانامعلوم ہے۔
تیسرا عالم، عالمِ سرمد ہے۔اس کی ابتدابالکل نظرنہیں آتی مگر انتہاسمجھ میں آتی ہے۔
چوتھا عالم، عالمِ ازل ہے۔ اس کی نہ ابتداکاپتہ ہے نہ اِنتہاکی خبرہے‘‘
پیرسائیں چاروں عوالم بیان کرکے تھوڑا سا رُکے اور پھر بولے:
’’اب بتاؤتم کونسی دُنیاہارے ہو؟‘‘
مجھے پیرسائیں کی پہلی بات کی سمجھ آگئی۔ ’’دین کو سمجھنے کے لئے دنیاکوسمجھنا ضروری ہے۔‘‘ واقعی ان دنیاؤں میں تو سب کچھ ہی آگیاہے اور میں اپنا آپ ہارچکاہوں۔
’’حضرت!کیایہ وہی چار عوالم ہیں جنہیں لاہوت ،جبروت، ملکوت اور ناسوت بھی کہاجاتاہے؟‘‘
’’ہاں۔یہ وہی دنیائیں ہیں۔محبت کے چاروں اسفارہوں یا عوالمِ الٰہی کے اسفارہوں، طے ہونے پر آئیں تو ایک ہی جست میں طے ہو جا تے ہیں۔بلکہ سفر شروع کرنے سے پہلے طے ہوجاتے ہیں۔اور طے نہ ہوں توآدمی ساری زندگی چکراتاپھرے۔ بھول بھلیاں میں ہی رہے گا۔‘‘
میں نے پیرسائیں کے چہرے کوغورسے دیکھا۔ وہاں گہرے کرب کے آثار نمایاں تھے۔ لاحاصلی کا دکھ اپنے آپ ظاہر ہورہاتھا۔ مجھے پیرسائیں بھی بھول بھلّیاں میں چکراتے نظر آئے۔
’’اللہ اکبر‘‘
مجذوب فقیر نے پھر نعرہ لگایااور مجھے محسوس ہواکہ پیرسائیں اس بار گھبراگئے ہیں۔
’’پیرسائیں!اس بھول بھلیاں سے نکلنے کی کیاصورت ہے؟‘‘
مجھے بھی مجذوب فقیرسے کچھ خوف محسوس ہونے لگا۔
’’توحیدِ خداوندی پہ کامل ایمان‘‘ پیرسائیں نے مجذوب فقیر کودیکھ کر تھوک نگلتے ہوئے کہا۔
’’توپھر مجھے توحیدکابھیدسمجھادیں‘‘
’’توحیدکابھید!‘‘پیرسائیں کی آواز لرزی’’تم نے سنانہیں۔جوتوحید کے بارے میں سوال کرتاہے وہ جاہل ہے۔ او رجو کوئی جواب دے کر اسے سمجھانے کی کوشش کرتاہے وہ مشرک ہے کیونکہ ’بے مثال‘کے بارے میں بتانے کے لئے اسے کسی مثال کاسہارا لیناپڑے گا‘‘پیرسائیں کی لرزتی آواز اب جوش سے بھرنے لگی تھی۔ ’’اور جو توحید کی معرفت کا دعویٰ کرے وہ ملحد ہے کیونکہ خدالامحدود ہے اس لئے اس کاعرفان کبھی مکمل ہو ہی نہیں سکتااور۔جوتوحید کو نہ سمجھے وہ کافرہے‘‘پیرسائیں کے بیان سے میں جھومنے لگا۔
مجذوب فقیر نے بھی الا اللہ۔الا اللہ کی صدائیں بلند کیں۔
’’سائیں پھر توساری بات ایک الف پر ہی تمام ہوتی ہے‘‘مجھے بلھے شاہ یادآگئے۔
’’تم نے الف سے آگے کاسبق نہیں پڑھا۔الف بھی زیادہ ہے‘‘
اس دفعہ پیرسائیں کی بجائے مجذوب فقیربولااور مجھے یوں لگاجیسے بھونچال سا آگیاہے۔ پیرسائیں بھی اسے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھنے لگے۔
’’علم ایک نقطہ ہے جسے جاہلوں نے بڑھادیاہے‘‘
مجذوب فقیر اپنی لے میں بولا
’’الف تو بہت زیادہ ہے۔ بات ایک نقطے میں تمام ہوچکی ہے۔‘‘
پیرسائیں،مجذوب فقیرکی بات سن کرتڑپے او ربے ہوش ہوگئے۔
دورکہیں سے بلھے شاہ کی کافی گانے کی آواز آرہی تھی۔
اک نقطے وچ گل مُکدی اے.....
پیرسائیں اور مجذوب دونوں ایک نقطے میں ڈھل گئے تھے۔
اس نقطے سے عجیب سکون بخش روشنی پھوٹ رہی تھی۔
او ریہ روشنی میرے دل سے پھوٹ رہی تھی
!
***

دو کہانیو ں کی ایک کہانی

دو کہانیو ں کی ایک کہانی

مشینوں کے اس عہدِ ناروا کامیں ہی یوسف ہوں
مجھے اس نوکری  کی  شکل  میں  نیلام ہونا تھا

بچپن میں جب میں نے پہلی بار الٰہ دین کے چراغ والے جن کی کہانی سنی تھی تو جن کا نام سن کر ڈرجانے کے باوجود مجھے کہانی اچھی لگی تھی۔ آج کارخانے کی چمنی سے اٹھتے ہوئے گہرے سیاہ دھویں کو دیکھ کر میں نے سوچاہے کہ ابھی اس میں سے ایک جن نمودار ہوگااور میرے سامنے دست بستہ کھڑے ہوکردرخواست کرے گا۔ ’’کیاحکم ہے میرے آقا۔۔؟‘‘

او رپھر میرے سارے دکھ دور ہوجائیں گے۔ میرے چاروں طرف روشنی پھیل جائے گی۔ لیکن جن کی بجائے سامنے سے کارخانے کاسخت دل اور کرخت زبان مالک آجاتاہے۔ میں خوفزدہ ہوکروہاں سے ہٹ جاتاہوں۔
**
شاہ جی سے ایک دفعہ ’’منطق الطیر‘‘ کے مسئلے پر بات ہوئی تو انہوں نے بُل اوربُلبُل کی ایک دن کی زندگی کا آنکھوں دیکھا اور کانوں سُنا پورا احوال سناڈالا۔ بعض جانوروں سے لے کر درختوں اور پودوں تک سے اپنی بات چیت کی کہانیاں سنادیں۔ میں شاہ جی کا بہت احترام کرتاہوں اس لئے ان کی باتوں کا یقین نہ کرنے کے باوجود چپ ہورہا۔ شاہ جی میری خاموشی کو بھانپ گئے۔ اسی لمحے روشنی کا چھناکاساہوا اور عجیب سانُور چاروں طرف بکھرگیا۔
میں نے دیکھاشاہ جی کی کلائی پر ایک مچھرآن بیٹھاہے لیکن یہ مچھر محض مچھر نہیں تھا۔وہ واضح طورپرایک بوڑھا ڈاکٹر لگ رہاتھاجس نے سفید کوٹ پہن رکھاتھا۔ہاتھ میں سرنج لئے وہ شاہ جی کو انجکشن لگانے کے لئے ذرا سا جھکا۔
’’جناب والا!کیوں مجھ غریب کے درپے ہیں؟شاہ جی نے بڑی ملائمت کے ساتھ مچھرسے کہا۔
’’یہ میری ڈیوٹی ہے جناب‘‘مچھرنے اپنی کمرپر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’لیکن جناب!میں زیادتئ خون کامریض نہیں ہوں‘‘شاہ جی نے کہا۔
’’میں نے ایک قطرہ کاپتہ نہیں کتناحصہ خون لیناہے۔ کیا فرق پڑے گا اس سے.....‘‘ مچھر نے کسی شفیق ڈاکٹر کی طرح مسکراتے ہوئے کہا، اپنی عینک کوماتھے پر چڑھایااور پھر کلائی کی طرف جھکتے ہوئے بولا ’’اور ہاں......یہ بھی ذہن میں رکھئے کہ معمولی سا خون لینے کے عوض میں ایک ایسا مادہ بھی خارج کرتاہوں جو آپ کے اندر فالج کے حملے کے خلاف قوتِ مدافعت پیداکرتاہے‘‘ اتناکہہ کر مچھر نے شاہ جی کو انجکشن لگادیا۔ شاہ جی صرف مسکراکررہ گئے۔ میں کسی معمول کی طرح کھویا کھویا سا اپنے آپ میں واپس آگیا۔
**
کارخانے کی چمنی سے نکلتے ہوئے دھویں کی سیاہی دیکھ کر سوچتاہوں اس میں میرا لہو شامل ہے تو پھر دھواں اتناسیاہ کیوں ہے؟ جن کا خون سفید ہوچکاہے وہ میری سلامتی کے علمبردارہیں۔ چمنی سے نکلتاہوا گہراسیاہ دھواں ان کی طرف سے میری حمایت میں سوگ کی علامت ہے۔ لیکن میرے سفید و سیاہ پر سارا اختیارانہیں کو حاصل ہے۔ الٰہ دین کا چراغ میرے ہاتھ میں ہے لیکن اب اس کی روایت بدل چکی ہے۔ اب جن کے احکامات کی بجاآوری الٰہ دین کافرض ہے۔
چمنی سے اٹھتے سیاہ دھویں کا رنگ کچھ اور گہرا ہوگیاہے۔شاید چراغ کا جن ابھی حاضر ہونیوالاہے۔میں اسکے احکامات کی تعمیل کے لئے پہلے ہی مؤدب ہوکرکھڑاہوجاتاہوں۔
**
’’منطق الطیر‘‘والے تجربے کے بعد سے میں شاہ جی کا بہت زیادہ معتقد ہوگیاہوں لیکن آج شاہ جی نے ایک پیرجی کا احوال سناکرحیران کردیا۔ شاہ جی اُن پیرجی سے بے حد متاثر نظرآرہے تھے۔کہنے لگے:
’’میں نے پیرجی سے پوچھایہ آپ نے اتنابڑا مزار کیوں بنارکھاہے؟
میری بات سن کر مسکرائے اور بولے’’یہ تو صرف لوگوں کو جمع کرنے کابہانہ ہے کیونکہ من حیث القوم ہم مردہ پرست ہیں۔ زندوں کو مارڈالتے ہیں اور مرے ہوؤں پر پھول چڑھاتے ہیں۔ بس اسی وجہ سے مزار بنوانا پڑا۔‘‘
میں پیرجی کی صاف گوئی سے بڑا متاثرہوا۔پھر ان کے علم کا اندازہ لگانے کے لئے ان سے الم کے معنی پوچھے۔ انہوں نے مجھے ششدر کرد یا ۔
’’یہ نفس کی تین حالتوں کا بیان ہے۔ امّارہ۔لوّامہ۔ مطمئنہ‘‘
پیرجی نے علم و معرفت کی اتنی بڑی بات ہلکے پھلکے انداز میں بیان کردی۔میں تب سے اب تک اسی عارفانہ سرور میں بھیگاہواہوں‘‘
شاہ جی کی پیرجی سے ملاقات کی روداد نے مجھے بھی مسحور کردیا۔
**
کارخانے کی رہائشی کالونی میں میرے کوارٹرسے ملحقہ کوارٹر کی ایک زلیخانے مجھے ایک عرصے سے آزمائش میں ڈال رکھاہے۔ میں نہ یوسف ہوں نہ پیغمبر۔ جبکہ زلیخاکے مقابلے کے لئے حسنِ یوسف اور شانِ پیغمبری دونوں کو یک جاکردیاجاتاہے۔ میں ان دونوں خوبیوں سے محروم، زلیخاکے سامنے کھڑاکانپ رہاہوں۔ آخر میں گنہگارکیوں اس کڑی آزمائش میں ڈال دیاگیاہوں۔ میں شیطان سے لڑتارہا۔ ساری رات مقابلہ ہوتارہا۔میں ہانپنے لگاجبکہ شیطان اسی طرح تازہ دم تھا۔ آخر میں کوارٹرسے بھاگ نکلا۔کارخانے پہنچاتووہاں کارخانے کے مالک کی شکل میں شیطان پھر میرا منتظر تھا۔اس کے چہرے پر بڑی سفّاک مسکراہٹ تھی اور وہ بالکل تازہ دم تھاجبکہ میں نڈھال ہوچکاتھا۔
**
میں نے اپنا سارادکھ شاہ جی کے سامنے کھول کررکھ دیا۔ان کی آنکھوں میں ایک ملکوتی چمک پیداہوئی۔
’’شیطان ہمارے اندر بھی ہوتاہے اور باہربھی۔ جنّوں میں بھی، انسانو ں میں بھی اور ان سے سوا بھی۔ شیطان کے لاکھوں روپ اور کروڑوں حربے ہیں۔ ہم عاجز انسان اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ‘‘ شاہ جی ذرا دم لینے کو رُکے اور پھر گویاہوئے ’’ہم شیطان کو مار نہیں سکتے اس لئے کبھی بھی شیطان کے ساتھ نہیں لڑنا۔‘‘
مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ یاالٰہی!یہ شاہ جی کیاکہہ رہے ہیں؟۔ میں نے پریشانی کے عالم میں سراٹھاکر شاہ جی کو دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں وہی ملکوتی چمک تھی۔
’’ہاں۔ہم شیطان کوہلاک نہیں کرسکتے اس لئے کبھی بھی شیطان کے ساتھ نہیں لڑنا۔بس جتناہوسکے اس نامراد سے بچ کر رہو اور اِس سے دور بھاگو۔ اس سے دور بھاگنے ہی میں عافیت ہے اور یہی تقویٰ ہے‘‘
شاہ جی کی بات میری سمجھ میں آگئی۔
**
آج شاہ جی سے پورے سات دن بعد ملاقات ہوئی۔وہ کچھ بجھے بجھے سے تھے۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا:
’’میں پھر پیرجی کے ہاں گیاتھا‘‘
’’اچھا!‘‘میں نے بڑے اشتیاق سے کہا۔
’’پیرجی کہنے لگے میں خداسے براہ راست گفتگو کراسکتاہوں‘‘
’’خداسے براہِ راست گفتگو۔مکالمہ الٰہیہ۔ ‘‘خوشی سے میری آواز لرزنے لگی۔
’’میرے لئے بھی یہ بڑی پُر کشش بات تھی‘‘ شاہ جی بھرائی ہوئی آواز میں بولے
’’پھر۔؟‘‘
’’پیرجی کی شرط ہے کہ خدا سے بات کروانے کے عوض انہیں ایک سجدہ کیاجائے‘‘
’’خداسے بات کرانے کے عوض پیرجی کو سجدہ!‘‘میرا دل بیٹھنے لگا’’پھر آپ نے کیاکہا؟‘‘
’’میں نے پیرجی سے کہا کہ جناب سرتوایک ہی ہے اور یہ جسے دیناتھا دے چکاہوں۔اگر دوسرا سر ہوتاتوضرور سجدہ کرتا‘‘ شاہ جی کی بھرائی ہوئی آواز پر جوش ہوگئی ’’پیرجی سے اتناکہہ کر میں واپس آگیا۔‘‘
’’شاہ جی!اب میری کہانی بھی سُن لیں‘‘ میں نے پھیکی مسکراہٹ لبوں پر لاتے ہوئے کہا۔
شاہ جی نے اس طرح میری طرف دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں’’سناؤ تمہاری کہانی کیاہے؟‘‘
’’شاہ جی!آپ نے کہاتھاناکہ شیطان جِنّوں میں بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں بھی اور یہ کہ ہم شیطان کامقابلہ نہیں کرسکتے۔ سوکارخانے کے مالک اور کالونی کی زلیخا، میں دونوں میں سے کسی کابھی مقابلہ نہیں کرسکتاتھااور ان دونوں سے بچنے کی ایک ہی صورت تھی، میں کارخانے کی نوکری چھوڑدوں۔اور شاہ جی! میں نے نوکری چھوڑ دی ہے‘‘
’’تو تم نے نوکری چھوڑدی؟‘‘شاہ جی نے بے حد دکھی لہجے میں پوچھا۔
مجھے یوں لگاجیسے شاہ جی نوکری اور کوارٹرچھوڑ کرآئے ہیں اور میں پیرجی کو جواب دے کر آیاہوں۔
او رہم دونوں شیطان سے لڑکر نہیں بھاگ کر آئے ہیں۔

***

گھٹن کا احساس

گھٹن کا احساس

ہم نے بھوگاہے صرف اسے حیدر
ہم  نے  کب  زندگی   گزاری   ہے

بچپن میں اُس کی ماں اُسے نلکے کے نیچے بٹھاکرنہلایاکرتی تھی۔اس کا بھائی نلکے کی ہتھی چلاتا،ماں اُس کے پورے جسم پر صابن مَل کر اسے اچھی طرح سے صاف کرتی۔ ماں کا نہلانا اُسے اچھا لگتاتھالیکن جب وہ اس کے منہ پر صابن لگاتی اور اسے آنکھوں میں اس کی چبھن محسوس ہوتی تب وہ تکلیف کے باعث اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارتا۔ صابن سے بھی زیادہ گھبراہٹ اُسے اُس وقت ہوتی جب اُس کا سر نلکے کے پھن کے عین نیچے ہوتا۔ پانی سیدھا اُس کے سر اور چہرے پر امنڈتاچلاآتااُسے ایسا لگتاجیسے وہ کسی گہرے پانی میں ڈوب رہاہو۔ وہ گھبراہٹ کے مارے چیخنے لگتا۔ ایسے موقعہ پر اس کابھائی شرارت سے نلکے کی ہتھی کو زیادہ تیزی سے چلانے لگتا۔ اُس کی گھبراہٹ تڑپنے جیسی حالت میں بدل جاتی۔ تب ماں اسے سینے سے لگالیتی۔ ماں کے سینے سے لگتے ہی اس کی ساری گھبراہٹ دور ہوجاتی۔

لڑکپن میں ایک بار اُسے اپنے باپ کے ساتھ ایک پہاڑ کی چوٹی پر جانے کا موقعہ ملا۔پہاڑکی چوٹی پر پہنچ کر اس نے نیچے دیکھا تو خوفزدہ ہوگیا۔وہ بلندی اور پانی دونوں سے ڈرنے لگا۔ اسے زمین سے جڑے رہنے میں عافیت محسوس ہونے لگی۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوتاگیا بلندی اور پانی سے اس کا خوف بڑھتاگیا۔ایک بار وہ ایک بائیس منزلہ عمارت کی آخری منزل پرگیا۔ بائیسویں منزل کے ایک فلیٹ کی بالکونی سے جب ا س نے نیچے جھانک کر دیکھاتو اسے لگاوہ ابھی نیچے گرپڑے گا۔ اس نے بالکونی سے پیچھے ہٹ کر دیوار کے ساتھ جڑکرآہستہ آہستہ کمرے کی طرف سرکناشروع کیااور جب وہ تین میٹر کافاصلہ طے کرکے بالکونی کے ساتھ ملحقہ کمرے میں گیاتو اس کاسانس ایسے پھولاہواتھا جیسے وہ ۳۰۰میٹر کی دوڑ کے آخری پوائنٹ پر پہنچاہو۔
جوانی میں ملازمت کے باعث اسے کئی گھر تبدیل کرنے پڑے۔ اسے اتفاق کہیں کہ ہر گھر کاباتھ روم بے حد مختصر ہوتا۔ نہانے والا سمٹ سمٹاکرشاور کے نیچے کھڑاہوسکتاتھا۔ کئی بار اس نے سوچا اس سے تو بچپن کا وہ نلکااور کھرّابہترتھا۔وہاں ایسی گھٹن تو نہیں تھی۔ تنگ باتھ روم میں جاکر کبھی کبھی اسے ایسے محسوس ہوتاجیسے وہ کوئی ملنگ ہے جو کسی شہزادی پر فریفتہ ہوگیاہے اور بادشاہ نے اسے سزا کے طورپر دیواروں میں زندہ چُن دینے کا حکم دے دیاہے۔ تب وہ نہائے بغیرہی گھبراکرباہر نکل آتا۔ نہاتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنی پوری کمرپرنہیں پھِرسکتاتھا۔ ماں کا کمرپر صابن مَلنا یادآتاتواسکا جی چاہتاکاش ماں زندہ ہوتی اور اب بھی میری کمرپر صابن مَل دیتی۔ ایسے ہی خیالوں کے دوران ایک بار اُس نے اپنی بیوی کو عجیب سی نظروں سے دیکھا۔ اس کی بیوی نہ صرف اس کی ماں کی بھتیجی تھی بلکہ بڑی حد تک اس کی ماں کی ہم شکل بھی تھی۔ اس نے اپنی بیوی سے اس خواہش کا اظہارکردیاکہ وہ نہاتے وقت اس کی کمرپر صابن مَل دیاکرے۔ اس کی بیوی تھوڑا ساشرمائی پھر کہنے لگی:’’مجھ سے یہ فلموں والے باتھ روم کے سین نہیں ہوسکتے‘‘وہ بیوی کے جملے پر مسکرایااور سوچایہ پگلی کہاں جاپہنچی۔ یوں بھی باتھ روم میں اتنی جگہ ہی کہا ں ہے کہ وہ بھی میرے ساتھ سماسکتی۔
ایک دن اس نے اخبارمیں خبرپڑھی:ایک عورت جسے مردہ سمجھ کردفن کردیاگیاتھادودِن کی مشقّت کے بعد اپنی قبر اُدھیڑ کر باہر نکل آئی یہ خبر پڑھ کر اس پر شدید گھبراہٹ طاری ہوگئی۔کسی زندہ انسان کو مردہ سمجھ کر دفن کردینا۔ لیکن قبر کے اندر لیٹاہواانسان کیسے اسے اُدھیڑسکتاہے؟اس نے خوف اور حیرت سے سوچا۔ پھر اس نے فرض کیاکہ اسے بھی اسی طرح مردہ سمجھ کر دفن کردیاجائے تووہ اپنی قبراُدھیڑسکے گایانہیں۔وہ تو سچ مچ وہیں دَم گھٹ کر مرجائے گااو رپھر گھبراکروہ کمرے سے باہر نکل آیا۔ رات کو جب سردی کے باعث اس نے کمبل اپنے منہ پرلیا، اسے ایسے لگاجیسے وہ کفن میں لپٹاہوا قبرمیں پڑاہے۔ اس نے گھبراکر کمبل کوچہرے سے ہی نہیں، سینے سے بھی اُتارپھینکااور بسترپر اُٹھ کر بیٹھ گیا۔بعد میں اس نے اپنے ایک دوست کو اپنی گھبراہٹ اور گھٹن کے احساس کے بارے میں بتایاتو اس نے اسے مشورہ دیاکہ تیراکی سیکھ لو۔ اب وہ اپنے دوست کو کیابتاتاکہ وہ بچپن سے نلکے کے پانی سے بھی خائف ہے۔ تیراکی کیسے سیکھ لے!سو اس نے دوست کے مشورے کو مذاق کے رنگ میں ٹال دیا’’کیا پتہ کل کلاں مجھے مہینوال کاکردارکرناپڑجائے پھر دریا میں ڈوبنے کے بجائے تیرکرپار لگ جاؤں گااور محبت کی رسوائی ہوجائے گی‘‘
اس عرصہ میں اوزون کامسئلہ،آلودگی کا مسئلہ اور ایٹمی جنگ کا امکانی خطرہ، ان موضوعات پر اس کا مطالعہ بڑھتاگا۔وہ سوچتا:انسان نے مختلف نظریات اور مزعومہ برتری کی لڑائیوں میں نفرت کی آلودگی بڑھائی، بلندیوں کی آرزو میں اوزون میں شگاف ڈال دیئے، صنعتی ترقی اور اسلحے کی دوڑ میں ماں جیسے مقدس پانی کو ناپاک کردیا، جنگلوں کو اُجاڑدیا، اتنے ہولناک نیوکلیائی ہتھیاربنالئے کہ دھرتی کا دم گھٹ کررہ جائے۔ یہ ساری بلندیاں انسانیت کو قبر میں گرانے والی ہیں۔ جیتے جی قبر میں گرانے والی۔ اور پھر اس کا دم گھٹنے لگتا۔ اس پر شدید گھبراہٹ طاری ہونے لگتی۔ ایسے ہی خیالوں میں کھویاہوا وہ ایک بارٹرین کا سفر کررہاتھا۔ جب سوچتے سوچتے اس کا دم گھٹنے لگاوہ اٹھ کر ٹرین کے دروازے کے قریب آیا۔دروازہ کھلاہواتھا اس نے گیٹ کے دائیں بائیں نصب شدہ دونو ں ڈنڈوں کو مضبوطی سے پکڑلیا۔اندر آتی ہوئی تیز ہواسے گھٹن کا احساس کم ہونے لگا۔اسے قدرے سکون مل رہاتھالیکن پھریکایک ا س کے ذہن میں عجیب سا خیال آیا۔چلتی گاڑی سے چھلانگ لگادو۔ پھر یوں لگاجیسے یہ خیال نہیں کوئی غیبی آواز ہے جو اسے حکم دے رہی ہے:چھلانگ لگادو۔
وہ گھبراکراپنی سیٹ کی طرف لوٹ آیا۔ اگر وہ مزید تھوڑی دیر گیٹ پر کھڑارہتاتو یقیناًچھلانگ لگادیتا۔ اس واقعہ کے بعد وہ کسی بھی بلندی والی جگہ جاتا، اسے یہی آواز سنائی دینے لگتی:نیچے چھلانک لگادو۔چھلانک لگادو۔ اور وہ گھبراکے نیچے آجاتا۔
اُس دن وہ صوبائی دارالحکومت سے واپس آرہاتھا۔ رستے میں ماں،باپ کی قبروں پر جانے کی آرزوہوئی اس لئے ان کے شہر کی طرف چل پڑا۔وہاں ان دنوں رستے میں دریا کاپُل زیر مرمّت تھا۔کام کی وجہ سے ساری رات پُل پر آمدورفت معطل رہتی تھی۔ اسے اس کا علم نہیں تھا۔ لیکن اب دریاکے اِس طرف آگیاتھاتو دوسری طرف جاکر ماں، باپ کی قبروں پر دعاکئے بغیر جانا اچھانہیں لگتاتھا۔چونکہ گرمیوں کے دن تھے اس لئے وہ دریاکے اس طرف مزے سے رات بسر کرسکتاتھا۔ اس نے ارادہ کرلیاکہ صبح رستہ کھلتے ہی دریاکے پارچلاجائے گا۔ لیکن رات دس بجے کے قریب ایک شخص اس کے پاس آیا اور اس نے بتایاکہ وہ دریاکے دوسری طرف والے شہر کا باسی ہے اور ایک چھوٹے سے پُل سے واقف ہے جہاں سے پیدل دریاپار کیاجاسکتاہے۔ وہ بغیرسوچے سمجھے اس شخص کے ساتھ چل پڑا۔ یہ بمشکل دو فٹ چوڑا پُل تھاجس کے ایک طرف لوہے کے پائپوں کاجنگلہ سابناتھااور دوسری طرف سے بغیر جنگلے کے تھا۔ ا س نے آدھاپُل بے خیالی میں پارکرلیاتو اسے احساس ہواکہ وہ تو پُل صراط پر چل رہاہے۔ اس نے جنگلے کو پکڑے ہوئے اوپر دیکھا۔ ریلوے لائن والے پُل پر چندھیا دینے والی روشنی تھی۔ وہاں مزدور کام کررہے تھے۔ اس نے چندھیائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ نیچے نظر دوڑائی تو گرمیوں کا چڑھتاہوادریاتھا۔ اس کا دل بیٹھنے لگا۔تب اسے جتنی دعائیں یادتھیں اس نے ان کا وِرد شروع کردیاان میں علم میں اضافے سے لے کر والدین کی مغفرت تک کی کئی غیر متعلق دعائیں بھی شامل تھیں۔نہ وہ اوپر دیکھ سکتاتھانہ نیچے۔ تب اس نے اپنے آگے والے ہم سفر کو دیکھاتو وہ غائب تھا۔ خوف سے اس کی گھگھی بندھ گئی۔ وہ کون تھااور کیوں مجھے یہاں تک لاکرغائب ہوگیا۔ دریا کے دوسری طرف والے شہر کے رہنے والے نے مجھے دھوکہ کیوں دیا؟ ان خیالوں اور سوالوں کے ساتھ اس نے بے بسی سے آسمان کی طرف نظر اُٹھائی۔ ایک طرف گہری تاریکی تھی اور ایک طرف ٹرین کے پُل پر ہونے والی تیز روشنی۔ گھبراہٹ میں اس کا ایک ہاتھ جنگلے سے ہٹ گیا۔ اس نے نیچے کی طرف دیکھا جہا ں دریا کا چڑھتاہوا پانی تھا، اضطراری طورپر اس کا دوسرا ہاتھ بھی جنگلے سے ہٹ گیا۔ اس کے قدم لڑکھڑائے تھے۔ پھر اسے وہی آواز سنائی دینے لگی: چھلانگ لگادو.... نیچے چھلانگ لگادو۔ پھر دریا میں گہری چھپاک کی آواز اس نے خود ہی سنی تھی۔
اس کے بعد اسے ایسا لگا جیسے اس کی ماں اسے نہلارہی ہے۔ اس نے اس کے منہ پر صابن مَل دیاہے۔ بھائی نے نلکے کی ہتھی تیز چلانی شرع کردی ہے۔ گھبراکر وہ تھوڑاسا تڑپاتو ماں نے بے تاب ہو کر اسے سینے سے لگالیا۔
اس کی ساری گھبراہٹ دور ہوچکی تھی۔

***